نماز تراویح اور اس کی مسائل

Table of Contents

 نماز تراویح اور اس کی مسائل 


تراویح ، ترویحہ کی جمع ہے ۔ ترویحہ کے لغوی معنی ہیں : ذرا آرام

کرنا ۔ نماز تراویح میں ہر چار رکعت کے بعد کچھ دیر بیٹھ کر آرام کرتے ہیں اس لیے پوری نماز کا نام نماز تراویح رکھا گیا ۔ نماز تراویح کا بیان محدثین و فقہاء اپنی اپنی کتب میں ٫ قیام رمضان ٫ کے الفاظ سے کرتے ہیں ۔ قیام رمضان کی فضیلت میں حضور کا ارشاد ہے کہ : 

جس نے ایمان اور اخلاص نیت کے ساتھ ماہ رمضان میں قیام کیا اس کے پہلے تمام گناہ معاف ہوگئے ۔ 


بیان مسائل 


مسئلہ ( ۱ ) 


رمضان المبارک میں عشاء کی نماز کے بعد تراویح کی نماز باجماعت مستحب ہے ۔ یہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا ایک قول ہے ۔ اور ان کا دوسرا قول یہ ہے کے تراویح کی نماز سنت مؤکدہ ہے اور یہی قول رائج ہے کیونکہ حضور صلَّی اللہُ تعالٰی علیْہ واٰلِہٖ وسلَّم نے اپنی حیات طیبہ میں آخری رمضان المبارک میں صرف تین بار نماز تراویح پڑھی ہے ۔ بعد میں آپ صلَّی اللہُ تعالٰی علیْہ واٰلِہٖ وسلَّم نے اس خوف سے ترک کر دی کہ کہیں اُمت پر فرض نہ ہو جائے ۔ معلوم یہ ہوا کہ اگر فرضیت کا اندیشہ نہ ہوتا تو ترک نہ فرماتے ۔ آپ صلَّی اللہُ تعالٰی علیْہ واٰلِہٖ وسلَّم کے وصال کے بعد جب فرضیت کا خوف نہ رہا تو صحابہ کرام رحمۃ اللہ علیہ نے تراویح کی نماز باجماعت کا اہتمام فرمایا ۔ 


مسئلہ ( ۲ ) 


امام لوگوں کو تراویح کی نماز پانچ ترویحات کی صورت میں پڑھائے اور ہر ترویحہ میں دو سلام ہوں ۔ ترویحہ سے مراد چار رکعت ہیں یعنی ہر چار رکعت میں دو رکعت کے بعد سلام پھیرے ۔ تراویح کی نماز بیس رکعت ہیں ۔ صحیح روایات میں آیا ہے کہ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ابی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بیس رکعت تراویح پڑھانے کا حکم دیا ۔ حضرت علی کرم اللہ  وجہہ نے بھی ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو بیس تراویح پڑھاے ۔ رکعت کی تعداد کا تعین اجتہادی امر نہیں ہے اگر حضور صلَّی اللہُ تعالٰی علیْہ واٰلِہٖ وسلَّم سے بیس رکعت تراویح ثابت نہ ہوتیں تو حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے طور پر ہرگز رکعات کا تعین نہیں فرما سکتے تھے اور نہ ہی صحابہ کرام رحمۃ اللہ علیہ بلا حیل و حجت اسے قبول فرما لیتے ۔ نیز حضور صلَّی اللہُ تعالٰی علیْہ واٰلِہٖ وسلَّم کا یہ بھی ارشاد ہے کہ : 

میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو ۔ 


تراویح کی بیس رکعت صحابہ کرام رحمۃ اللہ علیہ کا اجماع ہے اور ائمہ مجتہدین میں سے کوئی بھی بیس رکعت سے کم تراویح کا قائل نہیں ۔ کتب حدیث آٹھ رکعت تراویح کی جو روایات آئی ہیں وہ قیام اللیل کے باب کے تحت آئی ہیں نہ کہ قیام رمضان کے تحت ۔ لہٰذا ان سے تہجد کی نماز مراد ہے نہ کہ تراویح کی ۔ 


مسئلہ ( ۳ ) 


نماز تراویح میں ہر چار رکعت کے بعد اتنی دیر بیٹھنا جتنی دیر میں چار رکعتیں پڑھی گئی ہیں ، مستحب ہے ہاں اگر اتنی دير بیٹھنے میں لوگ تکلیف محسوس کریں تو اس سے کم بیٹھے ۔ اس بیٹھنے کے دوران اختیار ہے چاہے خاموش رہیں یا تسبیح پڑھیں یا اکیلے اکیلے نوافل پڑھیں یا آہستہ آہستہ آواز سے قرآن مجید پڑھیں ۔ 


مسئلہ ( ۴ ) 


نماز تراویح کے بعد امام لوگوں کو نماز وتر باجماعت پڑھائے اور رمضان کے علاوہ دوسرے دوسرے ایام میں وتر کی نماز جماعت سے نہ پڑھی جاۓ گی ۔ 

Raja Arslan

0 thoughts on “نماز تراویح اور اس کی مسائل”

Leave a Comment